5 مئی 2026 - 12:28
مآخذ: ابنا
امریکی اور اسرائیلی جنگ ہار چکے ہیں، ایران عالمی مزاحمت کی علامت بن گیا ہے: ناروے کی سیاسی رہنما

ناروے کی امن و انصاف پارٹی کی رہنما میریل لرینڈ نے موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں شکست کھا چکے ہیں، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران عالمی سطح پر مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ناروے کی امن و انصاف پارٹی کی رہنما میریل لرینڈ نے موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں شکست کھا چکے ہیں، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران عالمی سطح پر مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔

انہوں نے اپنے  ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ ہار چکے ہیں، اور جاری فوجی کارروائیاں نہ صورتحال بدل سکتی ہیں اور نہ ہی اس کے نتائج، بلکہ اس سے صرف انسانی جانوں کا نقصان بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے یورپ میں عوامی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث مغربی ممالک میں اس جنگ کی حمایت کم ہو رہی ہے، جس سے اس کی سیاسی حیثیت بھی متاثر ہوئی ہے۔

ناروے کی رہنما نے کہا کہ ایران نے دباؤ کے باوجود مزاحمت کی ایک مثال قائم کی ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں اسے ایک علامتی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔

انہوں نے مغربی میڈیا کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اب عوامی سطح پر سرکاری بیانیے پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور امریکہ و اسرائیل کے بارے میں مثبت تصویر برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

لرینڈ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ کی عالمی برتری کمزور ہو رہی ہے اور مغربی ممالک کی خارجہ پالیسیاں زیادہ تر امریکی حکمت عملی کے زیرِ اثر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ اور تنازعات کا حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ سیاسی راستہ ہے، اور موجودہ صورتحال میں امریکہ کو بالآخر پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha